4 اشعار

تیری گلی میں میں نہ چلوں اور صبا چلے

Teri gali mein main na chalun aur saba chale

تیری گلی میں میں نہ چلوں اور صبا چلے

«تیری گلی میں میں نہ چلوں اور صبا چلے» خواجہ میر درد کا کلام ہے، جسے انتظار حسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں (خواجہ میردرد)» میں 11 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 28 سیکنڈ ہے۔

تیری گلی میں میں نہ چلوں اور صبا چلےیوں ہی خدا جو چاہے تو بندے کی کیا چلے

کس کی یہ موج حسن ہوئی جلوہ گر کہ یوںدریا میں جو حباب تھے آنکھیں چھپا چلے

ہم بھی جرس کی طرح تو اس قافلے کے ساتھنالے جو کچھ بساط میں تھے سو سنا چلے

کہہ بیٹھیو نہ دردؔ کہ اہل وفا ہوں میںاس بے وفا کے آگے جو ذکر وفا چلے

— خواجہ میر درد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں