5 اشعار

سحر ہوتے ہی اٹھ کر وہ جو گھر سے باہر آ نکلا

Sahar hote hi uth kar woh jo ghar se bahar aa nikla

سحر ہوتے ہی اٹھ کر وہ جو گھر سے باہر آ نکلا

«سحر ہوتے ہی اٹھ کر وہ جو گھر سے باہر آ نکلا» خواجہ میر درد کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں (خواجہ میردرد)» میں 11 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 45 سیکنڈ ہے۔

سحر ہوتے ہی اٹھ کر وہ جو گھر سے باہر آ نکلاادھر ہی اتفاقاً پھرتے پھرتے میں بھی جا نکلا

مرے دل کو جو تو ہر دم بھلا اتنا ٹٹولے ہےتصور کے سوا تیرے بتا تو اس میں کیا نکلا

میں اپنا حال کہہ سارا جو پوچھا وعدہ آنے کاکہا سن سن کے سب باتوں کو آخر مدعا نکلا

مری تعریف کی تھی اس سے بعضوں نے سو وہ سن کرلگا کہنے جو سنتے تھے وہ اپنا آشنا نکلا

ملے ہے دردؔ اس کے ساتھ تو دیکھا غریبی ہےگھمنڈ اس کے جو تھا جی میں سو اب شاید گیا نکلا

— خواجہ میر درد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں