ہے غلط گر گُمان میں کچھ ہے
ہے غلط گر گُمان میں کچھ ہےتجھ سوا بھی جہان میں کچھ ہے؟
دل بھی تیرے ہی ڈھنگ سیکھا ہےآن میں کچھ ہے، آن میں کچھ ہے
باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں (خواجہ میردرد)
مہمان شاعر: خواجہ میر درد
ہے غلط گر گُمان میں کچھ ہےتجھ سوا بھی جہان میں کچھ ہے؟
دل بھی تیرے ہی ڈھنگ سیکھا ہےآن میں کچھ ہے، آن میں کچھ ہے
تجھی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھابرابر ہے دنیا کو دیکھا نہ دیکھا
مرا غنچۂ دل ہے وہ دل گرفتہکہ جس کو کسو نے کبھو وا نہ دیکھا
یاں عیش کے پردے میں چھپی دل شکنی ہےہر بزمِ طرب، جوں مژہ، برہم زدنی ہے
دل ٹکڑے کیا ہے یہ مرا،کس کے لبوں نےجو لخت ہے، سو رشکِ عقیقِ یمنی ہے
یہ زلف بتاں کا گرفتار میں ہوںیہ بیمار چشموں کا بیمار میں ہوں
کدھر بہکی پھرتی ہے اے بیکسی توتری جنس کا یاں خریدار میں ہوں
یوں ہی ٹھہری کہ ابھی جائیے گابات جو ہو گی، سو فرمائیے گا
میں جو پوچھا، کبھو آؤ گے؟ کہاجی میں آ جائے گی، تو آئیے گا