13 اشعار

دل کو بھی غم کا سلیقہ نہ تھا پہلے پہلے

Dil ko bhi gham ka saleeqa na tha pehle pehle

دل کو بھی غم کا سلیقہ نہ تھا پہلے پہلے

«دل کو بھی غم کا سلیقہ نہ تھا پہلے پہلے» کشور ناہید کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہمیں نےپیار مانگاتھا،ہمیں نے داغ پائے ہیں (کشور ناہید )» میں 17 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 38 سیکنڈ ہے۔

دل کو بھی غم کا سلیقہ نہ تھا پہلے پہلےاس کو بھی بھولنا اچھا لگا پہلے پہلے

دل تھا شب زاد اسے کس کی رفاقت ملتیخواب تعبیر سے چھپتا رہا پہلے پہلے

پہلے پہلے وہی انداز تھا دریا جیساپاس آ آ کے پلٹتا رہا پہلے پہلے

آنکھ آئینوں کی حیرت نہیں جاتی اب تکہجر کا گھاؤ بھی اس نے دیا پہلے پہلے

کھیل کرنے کو بہت تھے دل خواہش دیدہکیوں ہوا دیکھ جلایا دیا پہلے پہلے

عمر آئندہ کے خوابوں کو پیاسا رکھافاصلہ پاؤں پکڑتا رہا پہلے پہلے

ناخن بے خبری زخم بناتا ہی رہاکوئے وحشت میں تو رستہ نہ تھا پہلے پہلے

اب تو اس شخص کا پیکر بھی گل خواب نہیںجو کبھی مجھ میں تھا مجھ جیسا تھا پہلے پہلے

اب وہ پیاسا ہے تو ہر بوند بھی پوچھے نسبتوہ جو دریاؤں پہ ہنستا رہا پہلے پہلے

وہ ملاقات کا موسم نہیں آیا اب کےجو سر خواب سنورتا رہا پہلے پہلے

غم کا دریا مری آنکھوں میں سمٹ کر پوچھےکون رو رو کے بچھڑتا رہا پہلے پہلے

اب جو آنکھیں ہوئیں صحرا تو کھلا ہر منظردل بھی وحشت کو ترستا رہا پہلے پہلے

میں تھی دیوار تو اب کس کا ہے سایہ تجھ پرایسا صحرا زدہ چہرا نہ تھا پہلے پہلے

— کشور ناہید

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں