8 اشعار

جب میں نہ ہوں تو شہر میں مجھ سا کوئی تو ہو

Jab main na hoon to shehar mein mujh sa koi to ho

جب میں نہ ہوں تو شہر میں مجھ سا کوئی تو ہو

«جب میں نہ ہوں تو شہر میں مجھ سا کوئی تو ہو» کشور ناہید کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہمیں نےپیار مانگاتھا،ہمیں نے داغ پائے ہیں (کشور ناہید )» میں 17 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 55 سیکنڈ ہے۔

جب میں نہ ہوں تو شہر میں مجھ سا کوئی تو ہودیوار زندگی میں دریچہ کوئی تو ہو

اک پل کسی درخت کے سائے میں سانس لےسارے نگر میں جاننے والا کوئی تو ہو

دیکھے عجیب رنگ میں تنہا ہر ایک ذاتان گہرے پانیوں میں اترتا کوئی تو ہو

ڈھونڈوگے جس کو دل سے وہ مل جائے گا ضرورآئیں گے لوگ آپ تماشا کوئی تو ہو

پھر کوئی شکل بام پہ آئے نظر کہیںپھر رہگزار عام میں رسوا کوئی تو ہو

کوئی تو آرزوئے فروزاں سنبھال رکھہاں اپنے سر پہ قرض تمنا کوئی تو ہو

ہر دم علاج مہر و وفا ڈھونڈتے رہواس تیرگی میں گھر کا اجالا کوئی تو ہو

ناہیدؔ بندشوں میں مقید ہے زندگیجائیں ہزار بار بلاوا کوئی تو ہو

— کشور ناہید

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں