8 اشعار

گریہ، مایوسی، غم ترک وفا کچھ نہ رہا

Girya, mayusi, gham-e-tark-e-wafa kuch na raha

گریہ، مایوسی، غم ترک وفا کچھ نہ رہا

«گریہ، مایوسی، غم ترک وفا کچھ نہ رہا» کشور ناہید کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہمیں نےپیار مانگاتھا،ہمیں نے داغ پائے ہیں (کشور ناہید )» میں 17 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 11 سیکنڈ ہے۔

گریہ، مایوسی، غم ترک وفا کچھ نہ رہازندگی رہ گئی جینے کا مزا کچھ نہ رہا

روشنی تھی تو ہر اک شے کی حقیقت تھی عیاںتیرگی میں مری آنکھوں کے سوا کچھ نہ رہا

پیرہن رنگ برنگے نکل آئے اتنےنو دمیدہ گل شبو میں چھپا کچھ نہ رہا

کھا گئی خاک کو ہی خاک کریں کسی سے گلہکیا کریدیں کہ تہ خاک چھپا کچھ نہ رہا

تیرے ملنے کے ڈھنگ بھی تسلیم مگرذائقہ اس طرح بدلا کہ مزا کچھ نہ رہا

کیوں نہ ہو حشر بپا داد وفا کیوں نہ ملےجب ترے چاہنے والوں کے سوا کچھ نہ رہا

کیوں نہ مہمانوں کے کمرے میں سجائیں ان کوعلم کا نام کتابوں کے سوا کچھ نہ رہا

خوشبوئے وصل توجہ کا وہ عالم وہ خلوصڈوبتے چاند کی آغوش میں کیا کچھ نہ رہا

— کشور ناہید

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں