12 اشعار

ہم گنہ گار عورتیں ہیں

Hum gunah-gar auraten hain

ہم گنہ گار عورتیں ہیں

«ہم گنہ گار عورتیں ہیں» کشور ناہید کا کلام ہے، جسے سحر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہمیں نےپیار مانگاتھا،ہمیں نے داغ پائے ہیں (کشور ناہید )» میں 17 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 25 سیکنڈ ہے۔

یہ ہم گنہ گار عورتیں ہیںجو اہل جبہ کی تمکنت سے نہ رعب کھائیں

نہ جان بیچیںنہ سر جھکائیں

نہ ہاتھ جوڑیںیہ ہم گنہ گار عورتیں ہیں

کہ جن کے جسموں کی فصل بیچیں جو لوگوہ سرفراز ٹھہریں

نیابت امتیاز ٹھہریںوہ داور اہل ساز ٹھہریں

یہ ہم گنہ گار عورتیں ہیںکہ سچ کا پرچم اٹھا کے نکلیں

تو جھوٹ سے شاہراہیں اٹی ملے ہیںہر ایک دہلیز پہ سزاؤں کی داستانیں رکھی ملے ہیں

جو بول سکتی تھیں وہ زبانیں کٹی ملے ہیںیہ ہم گنہ گار عورتیں ہیں

کہ اب تعاقب میں رات بھی آئےتو یہ آنکھیں نہیں بجھیں گی

کہ اب جو دیوار گر چکی ہےاسے اٹھانے کی ضد نہ کرنا!

یہ ہم گنہ گار عورتیں ہیںجو اہل جبہ کی تمکنت سے نہ رعب کھائیں

نہ جان بیچیںنہ سر جھکائیں نہ ہاتھ جوڑیں!

— کشور ناہید

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں