7 اشعار

شام بانہوں میں لیے رات کی رانی آئی

Shaam baanhon mein liye raat ki rani aayi

شام بانہوں میں لیے رات کی رانی آئی

«شام بانہوں میں لیے رات کی رانی آئی» کشور ناہید کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہمیں نےپیار مانگاتھا،ہمیں نے داغ پائے ہیں (کشور ناہید )» میں 17 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔

شام بانہوں میں لیے رات کی رانی آئیاے محبت تجھے دینے کو سلامی آئی

تشنگی اتنی کہ دریا ہے مری آنکھوں میںنا شناسا ترے ہونے کی گواہی آئی

جس سے منسوب ہوا میرے خیالوں کا سفرڈھونڈنے اس کو مرے ساتھ ہوا بھی آئی

مجھ میں موجود ہے وہ اور نہیں ہے ظاہراس کی خواہش در و دیوار بناتی آئی

زخم ایسا تھا ٹپکتا تھا لہو آنکھوں سےاس کی خواہش در و دیوار بناتی آئی

زخم ایسا تھا ٹپکتا تھا لہو آنکھوں سےدل بیاں کر نہ سکا ایسی تباہی آئی

پرسش حال کرے کون کسے ہے فرصتکب مرے صحن میں نا دیدہ خدائی آئی

— کشور ناہید

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں