6 اشعار

اپنے دل کی کھوج میں کھو گئے کیا کیا لوگ

Apne dil ki khoj mein kho gaye kya kya log

اپنے دل کی کھوج میں کھو گئے کیا کیا لوگ

«اپنے دل کی کھوج میں کھو گئے کیا کیا لوگ» مجید امجد کا کلام ہے، جسے افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کیا روپ دوستی کا کیا رنگ دشمنی کا مجید امجد» میں 24 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔

اپنے دل کی کھوج میں کھو گئے کیا کیا لوگآنسو تپتی ریت میں بو گئے کیا کیا لوگ

کرنوں کے طوفان سے بجرے بھر بھر کرروشنیاں اس گھاٹ پر ڈھو گئے کیا کیا لوگ

سانجھ سمے اس کنج میں زندگیوں کی اوٹبج گئی کیا کیا بانسری رو گئے کیا کیا لوگ

میلی چادر تان کر اس چوکھٹ کے دوارصدیوں کے کہرام میں سو گئے کیا کیا لوگ

گٹھڑی کال رین کی سونٹی سے لٹکائےاپنی دھن میں دھیان نگر کو گئے کیا کیا لوگ

میٹھے میٹھے بول میں دوہے کا ہنڈولسن سن اس کو بانورے ہو گئے کیا کیا لوگ

— مجید امجد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں