8 اشعار

سفر کی موج میں تھے وقت کے غبار میں تھے

Safar ki mauj mein the waqt ke ghubaar mein the

سفر کی موج میں تھے وقت کے غبار میں تھے

«سفر کی موج میں تھے وقت کے غبار میں تھے» مجید امجد کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کیا روپ دوستی کا کیا رنگ دشمنی کا مجید امجد» میں 24 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔

سفر کی موج میں تھے وقت کے غبار میں تھےوہ لوگ جو ابھی اس قریۂ بہار میں تھے

وہ ایک چہرے پہ بکھرے عجب عجب سے خیالمیں سوچتا تو وہ غم میرے اختیار میں تھے

وہ ہونٹ جن میں تھا میٹھی سی ایک پیاس کا رسمیں جانتا تو وہ دریا مرے کنار میں تھے

مجھے خبر بھی نہ تھی اور اتفاق سے کلمیں اس طرف سے جو گزرا وہ انتظار میں تھے

میں کچھ سمجھ نہ سکا میری زندگی کے وہ خوابان انکھڑیوں میں جو تیرے تھے کس شمار میں تھے

میں دیکھتا تھا وہ آئے بھی اور چلے بھی گئےابھی یہیں تھے ابھی گرد روزگار میں تھے

میں دیکھتا تھا اچانک یہ آسماں یہ کرےبس ایک پل کو رکے اور پھر مدار میں تھے

ہزار بھیس میں سیار موسموں کے سفیرتمام عمر مری روح کے دیار میں تھے

— مجید امجد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں