8 اشعار

ہم ہند کے شیدائی

Hum Hind Ke Shaidaayi

اس دیس کی وادی میں ہر پھول مہکتا ہےہر قوم کے رہبر کا کردار لہکتا ہے

اپنا ہو کہ بیگانہ بلبل سا چہکتا ہےہر مذہب و ملت نے بھارت میں اماں پائی

ہم ہند کے رکھوالے ہم ہند کے شیدائیاک امن و محبت کی تفسیر ہے یہ گلشن

ایثار و اخوت کی تصویر ہے یہ گلشنتعمیر و ترقی کی تنویر ہے یہ گلشن

ہر گوشۂ بھارت ہے خود اپنا تماشائیہم ہند کے رکھوالے ہم ہند کے شیدائی

ہر فرد کو جینے کا انداز سکھا دیں گےکیا شے ہے رواداری دنیا کو دکھا دیں گے

ہر نسل کے انساں کو ہم ایک بنا دیں گےسورج کی کرن اب تو بادل سے نکل آئی

ہم ہند کے رکھوالے ہم ہند کے شیدائی

— مسعودہ حیات