12 اشعار

باپو

Bapu

شہرت ہے تیری باپو ہر سو مرے وطن میںتیرا ہی تذکرہ ہے دنیا کی انجمن میں

تو پھول بن کے مہکا کچھ اس طرح چمن میںخوشبو سما گئی ہے افسردہ جان و تن میں

تو صدر انجمن ہے تو نازش وطن ہےتو رنگ دلبری ہے تو نکہت چمن ہے

تجھ کو تھی مثل ایماں اپنے وطن سے الفتاخلاق سے مٹائی تو نے بنائے نفرت

مذہب تھا صرف تیرا خلق خدا کی خدمتاے قوم کے مسیحا اے فخر آدمیت

تیرا کرم ہے کتنا بھارت کی سر زمیں پرعظمت کی روشنی ہے اب ہند کی زمیں پر

جاہ و حشم کا لالچ دل میں کبھی نہ آیاجو دوسروں سے چاہا وہ کر کے خود دکھایا

چھوٹے بڑے کی تو نے تفریق کو مٹایاانسانیت کا پیہم سب کو سبق پڑھایا

تیرے زبان و دل میں تھا ایک ربط صادقتو عدل کا پجاری روحانیت کا عاشق

سارے چمن میں رقصاں ہے آج حسن فطرتکلیوں میں ہے محبت پھولوں میں ہے اخوت

تو نے وطن کو بخشی حسن یقیں کی دولتتو نے بنا دیا ہے بھارت کو مثل جنت

یہ انقلاب آیا تیرے ہی فکر و فن سےآزاد ہم ہوئے ہیں باپو تری لگن سے

— مسعودہ حیات