18 اشعار

نیتا جی

Neta Ji

تم سے بھارت کے لوگوں کیدیکھی نہ گئی جب بربادی

بے خوف و خطر ہو کر یکسرلڑنے لگے جنگ آزادی

کی دور وطن سے بربادیاے نیتا جی اے نیتا جی

چترنجن داس کی قربت میںبھارت کے لیے ہر کام کیا

دانش جرأت ہی سے اپنیقومی تحریک میں نام کیا

مانگیں تھیں تمہاری بنیادیاے نیتا جی اے نیتا جی

جھیلے نہ گئے انگریزوں کےبڑھتے ہوئے حد سے ظلم و ستم

اک فوج بنا کر پھر تم نےسب ختم کیے ان کے دم خم

کر دی دشمن کی بربادیاے نیتا جی اے نیتا جی

آزادی کی خاطر تم نےجیلیں کاٹیں ہر غم جھیلا

آزاد ہوا جس دن بھارتتم نے ہی نہ آنکھوں سے دیکھا

تم دیکھتے جشن آزادیاے نیتا جی اے نیتا جی

جاپان میں جا کر اے نیتاکس طرح کہاں روپوش ہوئے

رخ کر نہ سکے پھر بھارت کاایسے بھی کیا مدہوش ہوئے

آ جاؤ کہ اب ہے آزادیاے نیتا جی اے نیتا جی

اکثر یہ گماں ہے لوگوں کوتم سامنے جیسے آئے ہو

اس کا یہ کہیں مطلب تو نہیںتم ذہن و دل پر چھائے ہو

کہتی ہے یہ ساری آبادیاے نیتا جی اے نیتا جی

— مسعودہ حیات