7 اشعار

جشن مسرت

Jashn-e-Musarrat

یوں جشن مسرت کی ہر سمت گھٹا چھائیپھولوں پہ نکھار آیا کلیوں کو ہنسی آئی

شاداب ہوئی کھیتی فصلوں پہ بہار آئیبہتی ہوئی ندیوں نے کی بادیہ پیمائی

باپو کے اہنسا کی نہرو کے تخیل کیتنویر نظر آئی تصویر نظر آئی

ذہنوں سے جہالت کی ظلمت کو مٹا ڈالااب علم کے سورج کی گھر گھر میں کرن آئی

سائنس میں حرفت میں حاصل ہوئی یکسوئیاس دور میں بھارت نے ہر فن میں جلا پائی

اب دل میں امنگیں ہیں نظروں میں مسرت ہےہر سمت ہے زیبائی ہر سمت ہے رعنائی

دنیا کی نگاہیں بھی پابوس قیادت ہیںاس بنت جواہر کی اللہ رے مسیحائی

— مسعودہ حیات