20 اشعار

وطن کی شان

Watan Ki Shaan

رانی جب اسکول سے آئیامی کو یہ بات بتائی

امی جی اسکول میں اپنےخوب ہوئی ہے آج صفائی

کونا کونا صاف ہوا ہےصابن سے بھی ہوئی دھلائی

ہم نے سندر چارٹ بنائےاور اک اک دیوار سجائی

پھولوں کے پودوں سے ہم نےگلشن کی دھرتی مہکائی

اس سے بھی بڑھ کر امی بھیاور ہوئی ہے ایک بڑائی

وقت پہ میڈم آ جاتی ہیںہوتی ہے اب خوب پڑھائی

امی یہ کیا بھید ہے آخرکیسے یہ تبدیلی آئی

یہ سن کر پھر امی بولیںبیٹی کو ہر بات بتائی

تم کو یہ معلوم نہیں ہےبھارت نے لی ہے انگڑائی

بچہ بچہ جاگ اٹھا ہےخون میں سب کے گرمی آئی

دفتر مل اسکول دکانیںچھائی ہے سب پر رعنائی

مندر مسجد گردوارے بھیکرتے ہیں جلوہ آرائی

جنگل جنگل سبزہ لہکادہقاں کی امید بر آئی

شہر ہوئے ہیں صاف اور ستھرےگاؤں میں بھی رونق آئی

کتنے ہی دکھ دور ہوئے ہیںگھٹتی جاتی ہے مہنگائی

جھگی میں رہنے والوں کوکالونی کی راہ دکھائی

بھارت میں اب امن و اماں ہےمٹ گئے جھگڑے اور لڑائی

دیس کے دشمن سکتے میں ہیںبول کے سب نے منہ کی کھائی

جے ہو جے اندرا گاندھی کیاس نے وطن کی شان بڑھائی

— مسعودہ حیات