6 اشعار

عام حکم شراب کرتا ہوں

Ām hukm sharāb kartā hūñ

عام حکم شراب کرتا ہوں

«عام حکم شراب کرتا ہوں» میر تقی میر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

عام حکم شراب کرتا ہوںمحتسب کو کباب کرتا ہوں

ٹک تو رہ اے بنائے ہستی توتجھ کو کیسا خراب کرتا ہوں

بحث کرتا ہوں ہو کے ابجد خواںکس قدر بے حساب کرتا ہوں

کوئی بجھتی ہے یہ بھڑک میں عبثتشنگی پر عتاب کرتا ہوں

سر تلک آب تیغ میں ہوں غرقاب تئیں آب آب کرتا ہوں

جی میں پھرتا ہے میرؔ وہ میرےجاگتا ہوں کہ خواب کرتا ہوں

— میر تقی میر