9 اشعار

آؤ کبھو تو پاس ہمارے بھی ناز سے

Ā'o kabhū to pās hamāre bhī nāz se

آؤ کبھو تو پاس ہمارے بھی ناز سے

«آؤ کبھو تو پاس ہمارے بھی ناز سے» میر تقی میر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔

آؤ کبھو تو پاس ہمارے بھی ناز سےکرنا سلوک خوب ہے اہل نیاز سے

پھرتے ہو کیا درختوں کے سائے میں دور دورکر لو موافقت کسو بے برگ و ساز سے

ہجراں میں اس کے زندگی کرنا بھلا نہ تھاکوتاہی جو نہ ہووے یہ عمر دراز سے

مانند سبحہ عقدے نہ دل کے کبھو کھلےجی اپنا کیوں کہ اچٹے نہ روزے نماز سے

کرتا ہے چھید چھید ہمارا جگر تماموہ دیکھنا ترا مژۂ نیم باز سے

دل پر ہو اختیار تو ہرگز نہ کریے عشقپرہیز کریے اس مرض جاں گداز سے

آگے بچھا کے نطع کو لاتے تھے تیغ و طشتکرتے تھے یعنی خون تو اک امتیاز سے

مانع ہوں کیوں کہ گریۂ خونیں کے عشق میںہے ربط خاص چشم کو افشائے راز سے

شاید شراب خانے میں شب کو رہے تھے میرؔکھیلے تھا ایک مغبچہ مہر نماز سے

— میر تقی میر