4 اشعار

باتیں ہماری یاد رہیں پھر باتیں ایسی نہ سنیے گا

Bāteñ hamārī yād raheñ phir bāteñ aisī na suniyegā

باتیں ہماری یاد رہیں پھر باتیں ایسی نہ سنیے گا

«باتیں ہماری یاد رہیں پھر باتیں ایسی نہ سنیے گا» میر تقی میر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 36 سیکنڈ ہے۔

باتیں ہماری یاد رہیں پھر باتیں ایسی نہ سنیے گاپڑھتے کسو کو سنیے گا تو دیر تلک سر دھنیے گا

سعی و تلاش بہت سی رہے گی اس انداز کے کہنے کیصحبت میں علما فضلا کی جا کر پڑھیے گنیے گا

دل کی تسلی جب کہ ہوگی گفت و شنود سے لوگوں کیآگ پھنکے گی غم کی بدن میں اس میں جلیے بھنیے گا

گرم اشعار میرؔ درونہ داغوں سے یہ بھر دیں گےزرد رو شہر میں پھریے گا گلیوں میں نے گل چنیے گا

— میر تقی میر