5 اشعار

چلتے ہو تو چمن کو چلئے کہتے ہیں کہ بہاراں ہے

Chalte ho to chaman ko chaliye kahte haiñ ke bahārāñ hai

چلتے ہو تو چمن کو چلئے کہتے ہیں کہ بہاراں ہے

«چلتے ہو تو چمن کو چلئے کہتے ہیں کہ بہاراں ہے» میر تقی میر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

چلتے ہو تو چمن کو چلئے کہتے ہیں کہ بہاراں ہےپات ہرے ہیں پھول کھلے ہیں کم کم باد و باراں ہے

رنگ ہوا سے یوں ٹپکے ہے جیسے شراب چواتے ہیںآگے ہو مے خانے کے نکلو عہد بادہ گساراں ہے

عشق کے میداں داروں میں بھی مرنے کا ہے وصف بہتیعنی مصیبت ایسی اٹھانا کار کار گزاراں ہے

دل ہے داغ جگر ہے ٹکڑے آنسو سارے خون ہوئےلوہو پانی ایک کرے یہ عشق لالہ عذاراں ہے

کوہ کن و مجنوں کی خاطر دشت و کوہ میں ہم نہ گئےعشق میں ہم کو میرؔ نہایت پاس عزت داراں ہے

— میر تقی میر