7 اشعار

چمن میں گل نے جو کل دعوی جمال کیا

Chaman meñ gul ne jo kal da'vā-e-jamāl kiyā

چمن میں گل نے جو کل دعوی جمال کیا

«چمن میں گل نے جو کل دعوی جمال کیا» میر تقی میر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

چمن میں گل نے جو کل دعوی جمال کیاجمال یار نے منہ اس کا خوب لال کیا

فلک نے آہ تری رہ میں ہم کو پیدا کربرنگ سبزۂ نورستہ پائمال کیا

رہی تھی دم کی کشاکش گلے میں کچھ باقیسو اس کی تیغ نے جھگڑا ہی انفصال کیا

مری اب آنکھیں نہیں کھلتیں ضعف سے ہمدمنہ کہہ کہ نیند میں ہے تو یہ کیا خیال کیا

بہار رفتہ پھر آئی ترے تماشے کوچمن کو یمن قدم نے ترے نہال کیا

جواب نامہ سیاہی کا اپنی ہے وہ زلفکسو نے حشر کو ہم سے اگر سوال کیا

لگا نہ دل کو کہیں کیا سنا نہیں تو نےجو کچھ کہ میرؔ کا اس عاشقی نے حال کیا

— میر تقی میر