9 اشعار

دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے

Dekh to dil ke jāñ se uṭhtā hai

دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے

«دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے» میر تقی میر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہےیہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے

گور کس دل جلے کی ہے یہ فلکشعلہ اک صبح یاں سے اٹھتا ہے

خانۂ دل سے زینہار نہ جاکوئی ایسے مکاں سے اٹھتا ہے

نالہ سر کھینچتا ہے جب میراشور اک آسماں سے اٹھتا ہے

لڑتی ہے اس کی چشم شوخ جہاںایک آشوب واں سے اٹھتا ہے

سدھ لے گھر کی بھی شعلۂ آوازدود کچھ آشیاں سے اٹھتا ہے

بیٹھنے کون دے ہے پھر اس کوجو ترے آستاں سے اٹھتا ہے

یوں اٹھے آہ اس گلی سے ہمجیسے کوئی جہاں سے اٹھتا ہے

عشق اک میرؔ بھاری پتھر ہےکب یہ تجھ ناتواں سے اٹھتا ہے

— میر تقی میر