9 اشعار

غم رہا جب تک کہ دم میں دم رہا

Gham rahā jab tak ke dam meñ dam rahā

غم رہا جب تک کہ دم میں دم رہا

«غم رہا جب تک کہ دم میں دم رہا» میر تقی میر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 4 سیکنڈ ہے۔

غم رہا جب تک کہ دم میں دم رہادل کے جانے کا نہایت غم رہا

حسن تھا تیرا بہت عالم فریبخط کے آنے پر بھی اک عالم رہا

دل نہ پہنچا گوشۂ داماں تلکقطرۂ خوں تھا مژہ پر جم رہا

سنتے ہیں لیلیٰ کے خیمے کو سیاہاس میں مجنوں کا مگر ماتم رہا

جامۂ احرام زاہد پر نہ جاتھا حرم میں لیک نامحرم رہا

زلفیں کھولیں تو تو ٹک آیا نظرعمر بھر یاں کام دل برہم رہا

اس کے لب سے تلخ ہم سنتے رہےاپنے حق میں آب حیواں سم رہا

میرے رونے کی حقیقت جس میں تھیایک مدت تک وہ کاغذ نم رہا

صبح پیری شام ہونے آئی میرؔتو نہ چیتا یاں بہت دن کم رہا

— میر تقی میر