9 اشعار

ہم آپ ہی کو اپنا مقصود جانتے ہیں

Hum āp hī ko apnā maqṣūd jānte haiñ

ہم آپ ہی کو اپنا مقصود جانتے ہیں

«ہم آپ ہی کو اپنا مقصود جانتے ہیں» میر تقی میر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 40 سیکنڈ ہے۔

ہم آپ ہی کو اپنا مقصود جانتے ہیںاپنے سوائے کس کو موجود جانتے ہیں

عجز و نیاز اپنا اپنی طرف ہے سارااس مشت خاک کو ہم مسجود جانتے ہیں

صورت پذیر ہم بن ہرگز نہیں وے مانےاہل نظر ہمیں کو معبود جانتے ہیں

عشق ان کی عقل کو ہے جو ماسوا ہمارےناچیز جانتے ہیں نا بود جانتے ہیں

اپنی ہی سیر کرنے ہم جلوہ گر ہوئے تھےاس رمز کو ولیکن معدود جانتے ہیں

یا رب کسے ہے ناقہ ہر غنچہ اس چمن کاراہ وفا کو ہم تو مسدود جانتے ہیں

یہ ظلم بے نہایت دشوار تر کہ خوباںبد وضعیوں کو اپنی محمود جانتے ہیں

کیا جانے داب صحبت از خویش رفتگاں کامجلس میں شیخ صاحب کچھ کود جانتے ہیں

مر کر بھی ہاتھ آوے تو میرؔ مفت ہے وہجی کے زیان کو بھی ہم سود جانتے ہیں

— میر تقی میر