7 اشعار

اشک اپنا کہ تمہارا نہیں دیکھا جاتا

Ashk apna ki tumhara nahin dekha jata

اشک اپنا کہ تمہارا نہیں دیکھا جاتا

«اشک اپنا کہ تمہارا نہیں دیکھا جاتا» محسن نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔

اشک اپنا کہ تمہارا نہیں دیکھا جاتاابر کی زد میں ستارا نہیں دیکھا جاتا

اپنی شہ رگ کا لہو تن میں رواں ہے جب تکزیر خنجر کوئی پیارا نہیں دیکھا جاتا

موج در موج الجھنے کی ہوس بے معنیڈوبتا ہو تو سہارا نہیں دیکھا جاتا

تیرے چہرے کی کشش تھی کہ پلٹ کر دیکھاورنہ سورج تو دوبارہ نہیں دیکھا جاتا

آگ کی ضد پہ نہ جا پھر سے بھڑک سکتی ہےراکھ کی تہہ میں شرارہ نہیں دیکھا جاتا

زخم آنکھوں کے بھی سہتے تھے کبھی دل والےاب تو ابرو کا اشارا نہیں دیکھا جاتا

کیا قیامت ہے کہ دل جس کا نگر ہے محسنؔدل پہ اس کا بھی اجارہ نہیں دیکھا جاتا

— محسن نقوی