9 اشعار

عذاب دید میں آنکھیں لہو لہو کر کے

Azāb dīd meñ āñkheñ lahu lahu kar ke

عذاب دید میں آنکھیں لہو لہو کر کے

«عذاب دید میں آنکھیں لہو لہو کر کے» محسن نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

عذاب دید میں آنکھیں لہو لہو کر کےمیں شرمسار ہوا تیری جستجو کر کے

کھنڈر کی تہ سے بریدہ بدن سروں کے سواملا نہ کچھ بھی خزانوں کی آرزو کر کے

سنا ہے شہر میں زخمی دلوں کا میلہ ہےچلیں گے ہم بھی مگر پیرہن رفو کر کے

مسافت شب ہجراں کے بعد بھید کھلاہوا دکھی ہے چراغوں کی آبرو کر کے

زمیں کی پیاس اسی کے لہو کو چاٹ گئیوہ خوش ہوا تھا سمندر کو آب جو کر کے

یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگاابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخ رو کر کے

جلوس اہل وفا کس کے در پہ پہنچا ہےنشان‌ طوق وفا زینت گلو کر کے

اجاڑ رت کو گلابی بنائے رکھتی ہےہماری آنکھ تری دید سے وضو کر کے

کوئی تو حبس ہوا سے یہ پوچھتا محسنؔملا ہے کیا اسے کلیوں کو بے نمو کر کے

— محسن نقوی