8 اشعار

بھڑکائیں مری پیاس کو اکثر تری آنکھیں

Bhaṛkā.eñ merī pyās ko aksar terī āñkheñ

بھڑکائیں مری پیاس کو اکثر تری آنکھیں

«بھڑکائیں مری پیاس کو اکثر تری آنکھیں» محسن نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

بھڑکائیں مری پیاس کو اکثر تری آنکھیںصحرا مرا چہرا ہے سمندر تری آنکھیں

پھر کون بھلا داد تبسم انہیں دے گاروئیں گی بہت مجھ سے بچھڑ کر تری آنکھیں

خالی جو ہوئی شام غریباں کی ہتھیلیکیا کیا نہ لٹاتی رہیں گوہر تیری آنکھیں

بوجھل نظر آتی ہیں بظاہر مجھے لیکنکھلتی ہیں بہت دل میں اتر کر تری آنکھیں

اب تک مری یادوں سے مٹائے نہیں مٹتابھیگی ہوئی اک شام کا منظر تری آنکھیں

ممکن ہو تو اک تازہ غزل اور بھی کہہ لوںپھر اوڑھ نہ لیں خواب کی چادر تری آنکھیں

میں سنگ صفت ایک ہی رستے میں کھڑا ہوںشاید مجھے دیکھیں گی پلٹ کر تری آنکھیں

یوں دیکھتے رہنا اسے اچھا نہیں محسنؔوہ کانچ کا پیکر ہے تو پتھر تری آنکھیں

— محسن نقوی