6 اشعار

ایک پل میں زندگی بھر کی اداسی دے گیا

Ek pal meñ zindagī bhar kī udāsī de gayā

ایک پل میں زندگی بھر کی اداسی دے گیا

«ایک پل میں زندگی بھر کی اداسی دے گیا» محسن نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

ایک پل میں زندگی بھر کی اداسی دے گیاوہ جدا ہوتے ہوئے کچھ پھول باسی دے گیا

نوچ کر شاخوں کے تن سے خشک پتوں کا لباسزرد موسم بانجھ رت کو بے لباسی دے گیا

صبح کے تارے مری پہلی دعا تیرے لیےتو دل بے صبر کو تسکیں ذرا سی دے گیا

لوگ ملبوں میں دبے سائے بھی دفنانے لگےزلزلہ اہل زمیں کو بد حواسی دے گیا

تند جھونکے کی رگوں میں گھول کر اپنا دھواںاک دیا اندھی ہوا کو خود شناسی دے گیا

لے گیا محسنؔ وہ مجھ سے ابر بنتا آسماںاس کے بدلے میں زمیں صدیوں کی پیاسی دے گیا

— محسن نقوی