7 اشعار

فضا کا حبس شگوفوں کو باس کیا دے گا

Fazā kā habs shagūfoñ ko baas kyā de gā

فضا کا حبس شگوفوں کو باس کیا دے گا

«فضا کا حبس شگوفوں کو باس کیا دے گا» محسن نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

فضا کا حبس شگوفوں کو باس کیا دے گابدن دریدہ کسی کو لباس کیا دے گا

یہ دل کہ قحط انا سے غریب ٹھہرا ہےمری زباں کو زر التماس کیا دے گا

جو دے سکا نہ پہاڑوں کو برف کی چادروہ میری بانجھ زمیں کو کپاس کیا دے گا

یہ شہر یوں بھی تو دہشت بھرا نگر ہے یہاںدلوں کا شور ہوا کو ہراس کیا دے گا

وہ زخم دے کے مجھے حوصلہ بھی دیتا ہےاب اس سے بڑھ کے طبیعت شناس کیا دے گا

جو اپنی ذات سے باہر نہ آ سکا اب تکوہ پتھروں کو متاع حواس کیا دے گا

وہ میرے اشک بجھائے گا کس طرح محسنؔسمندروں کو وہ صحرا کی پیاس کیا دے گا

— محسن نقوی