7 اشعار

غزلوں کی دھنک اوڑھ مرے شعلہ بدن تو

Ghazloñ kī dhanak oṛh mire sho'la-badan tū

غزلوں کی دھنک اوڑھ مرے شعلہ بدن تو

«غزلوں کی دھنک اوڑھ مرے شعلہ بدن تو» محسن نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 4 سیکنڈ ہے۔

غزلوں کی دھنک اوڑھ مرے شعلہ بدن توہے میرا سخن تو مرا موضوع سخن تو

کلیوں کی طرح پھوٹ سر شاخ تمناخوشبو کی طرح پھیل چمن تا بہ چمن تو

نازل ہو کبھی ذہن پہ آیات کی صورتآیات میں ڈھل جا کبھی جبریل دہن تو

اب کیوں نہ سجاؤں میں تجھے دیدہ و دل میںلگتا ہے اندھیرے میں سویرے کی کرن تو

پہلے نہ کوئی رمز سخن تھی نہ کنایہاب نقطۂ تکمیل ہنر محور فن تو

یہ کم تو نہیں تو مرا معیار نظر ہےاے دوست مرے واسطے کچھ اور نہ بن تو

ممکن ہو تو رہنے دے مجھے ظلمت جاں میںڈھونڈے گا کہاں چاندنی راتوں کا کفن تو

— محسن نقوی