7 اشعار

ہم جو پہنچے سر مقتل تو یہ منظر دیکھا

Ham jo pahuñche sar-e-maqtal to ye manzar dekhā

ہم جو پہنچے سر مقتل تو یہ منظر دیکھا

«ہم جو پہنچے سر مقتل تو یہ منظر دیکھا» محسن نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔

ہم جو پہنچے سر مقتل تو یہ منظر دیکھاسب سے اونچا تھا جو سر نوک سناں پر دیکھا

ہم سے مت پوچھ کہ کب چاند ابھرتا ہے یہاںہم نے سورج بھی ترے شہر میں آ کر دیکھا

ایسے لپٹے ہیں در و بام سے اب کے جیسےحادثوں نے بڑی مدت میں مرا گھر دیکھا

اب یہ سوچا ہے کہ اوروں کا کہا مانیں گےاپنی آنکھوں پہ بھروسا تو بہت کر دیکھا

ایک اک پل میں اترتا رہا صدیوں کا عذابہجر کی رات گزاری ہے کہ محشر دیکھا

مجھ سے مت پوچھ مری تشنہ لبی کے تیورریت چمکی تو یہ سمجھو کہ سمندر دیکھا

دکھ ہی ایسا تھا کہ محسنؔ ہوا گم سم ورنہغم چھپا کر اسے ہنستے ہوئے اکثر دیکھا

— محسن نقوی