6 اشعار

ہر ایک شب یوں ہی دیکھیں گی سوئے در آنکھیں

Har ek shab yūñ hī dekheñgī sū-e-dar āñkheñ

ہر ایک شب یوں ہی دیکھیں گی سوئے در آنکھیں

«ہر ایک شب یوں ہی دیکھیں گی سوئے در آنکھیں» محسن نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 44 سیکنڈ ہے۔

ہر ایک شب یوں ہی دیکھیں گی سوئے در آنکھیںتجھے گنوا کے نہ سوئیں گی عمر بھر آنکھیں

طلوع صبح سے پہلے ہی بجھ نہ جائیں کہیںیہ دشت شب میں ستاروں کی ہم سفر آنکھیں

ستم یہ کم تو نہیں دل گرفتگی کے لئےمیں شہر بھر میں اکیلا ادھر ادھر آنکھیں

شمار اس کی سخاوت کا کیا کریں کہ وہ شخصچراغ بانٹتا پھرتا ہے چھین کر آنکھیں

میں زخم زخم ہوا جب تو مجھ پہ بھید کھلاکہ پتھروں کو سمجھتی رہیں گہر آنکھیں

میں اپنے اشک سنبھالوں گا کب تلک محسنؔزمانہ سنگ بکف ہے تو شیشہ گر آنکھیں

— محسن نقوی