6 اشعار

ہوائے ہجر میں جو کچھ تھا اب کے خاک ہوا

Havā-e-hijr meñ jo kuchh thā ab ke ḳhāk huā

ہوائے ہجر میں جو کچھ تھا اب کے خاک ہوا

«ہوائے ہجر میں جو کچھ تھا اب کے خاک ہوا» محسن نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

ہوائے ہجر میں جو کچھ تھا اب کے خاک ہواکہ پیرہن تو گیا تھا بدن بھی چاک ہوا

اب اس سے ترک تعلق کروں تو مر جاؤںبدن سے روح کا اس درجہ اشتراک ہوا

یہی کہ سب کی کمانیں ہمیں پہ ٹوٹی ہیںچلو حساب صف دوستاں تو پاک ہوا

وہ بے سبب یوں ہی روٹھا ہے لمحہ بھر کے لئےیہ سانحہ نہ سہی پھر بھی کرب‌ ناک ہوا

اسی کے قرب نے تقسیم کر دیا آخروہ جس کا ہجر مجھے وجہ انہماک ہوا

شدید وار نہ دشمن دلیر تھا محسنؔمیں اپنی بے خبری سے مگر ہلاک ہوا

— محسن نقوی