6 اشعار

جب ہجر کے شہر میں دھوپ اتری میں جاگ پڑا تو خواب ہوا

Jab hijr ke shahr meñ dhūp utrī maiñ jāg paṛā to ḳhvāb huā

جب ہجر کے شہر میں دھوپ اتری میں جاگ پڑا تو خواب ہوا

«جب ہجر کے شہر میں دھوپ اتری میں جاگ پڑا تو خواب ہوا» محسن نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

جب ہجر کے شہر میں دھوپ اتری میں جاگ پڑا تو خواب ہوامری سوچ خزاں کی شاخ بنی ترا چہرہ اور گلاب ہوا

برفیلی رت کی تیز ہوا کیوں جھیل میں کنکر پھینک گئیاک آنکھ کی نیند حرام ہوئی اک چاند کا عکس خراب ہوا

ترے ہجر میں ذہن پگھلتا تھا ترے قرب میں آنکھیں جلتی ہیںتجھے کھونا ایک قیامت تھا ترا ملنا اور عذاب ہوا

بھرے شہر میں ایک ہی چہرہ تھا جسے آج بھی گلیاں ڈھونڈتی ہیںکسی صبح اسی کی دھوپ کھلی کسی رات وہی مہتاب ہوا

بڑی عمر کے بعد ان آنکھوں میں کوئی ابر اترا تری یادوں کامرے دل کی زمیں آباد ہوئی مرے غم کا نگر شاداب ہوا

کبھی وصل میں محسنؔ دل ٹوٹا کبھی ہجر کی رت نے لاج رکھیکسی جسم میں آنکھیں کھو بیٹھے کوئی چہرہ کھلی کتاب ہوا

— محسن نقوی