9 اشعار

جب سے اس نے شہر کو چھوڑا ہر رستہ سنسان ہوا

Jab se us ne shahr ko chhoṛā har rastā sunsān huā

جب سے اس نے شہر کو چھوڑا ہر رستہ سنسان ہوا

«جب سے اس نے شہر کو چھوڑا ہر رستہ سنسان ہوا» محسن نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 22 سیکنڈ ہے۔

جب سے اس نے شہر کو چھوڑا ہر رستہ سنسان ہوااپنا کیا ہے سارے شہر کا اک جیسا نقصان ہوا

یہ دل یہ آسیب کی نگری مسکن سوچوں وہموں کاسوچ رہا ہوں اس نگری میں تو کب سے مہمان ہوا

صحرا کی منہ زور ہوائیں اوروں سے منسوب ہوئیںمفت میں ہم آوارہ ٹھہرے مفت میں گھر ویران ہوا

میرے حال پہ حیرت کیسی درد کے تنہا موسم میںپتھر بھی رو پڑتے ہیں انسان تو پھر انسان ہوا

اتنی دیر میں اجڑے دل پر کتنے محشر بیت گئےجتنی دیر میں تجھ کو پا کر کھونے کا امکان ہوا

کل تک جس کے گرد تھا رقصاں اک انبوہ ستاروں کاآج اسی کو تنہا پا کر میں تو بہت حیران ہوا

اس کے زخم چھپا کر رکھیے خود اس شخص کی نظروں سےاس سے کیسا شکوہ کیجے وہ تو ابھی نادان ہوا

جن اشکوں کی پھیکی لو کو ہم بے کار سمجھتے تھےان اشکوں سے کتنا روشن اک تاریک مکان ہوا

یوں بھی کم آمیز تھا محسنؔ وہ اس شہر کے لوگوں میںلیکن میرے سامنے آ کر اور بھی کچھ انجان ہوا

— محسن نقوی