6 اشعار

جگنو گہر چراغ اجالے تو دے گیا

Jugnū gauhar chirāġh ujāle to de gayā

جگنو گہر چراغ اجالے تو دے گیا

«جگنو گہر چراغ اجالے تو دے گیا» محسن نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 41 سیکنڈ ہے۔

جگنو گہر چراغ اجالے تو دے گیاوہ خود کو ڈھونڈنے کے حوالے تو دے گیا

اب اس سے بڑھ کے کیا ہو وراثت فقیر کیبچوں کو اپنی بھیک کے پیالے تو دے گیا

اب میری سوچ سائے کی صورت ہے اس کے گردمیں بجھ کے اپنے چاند کو ہالے تو دے گیا

شاید کہ فصل سنگ زنی کچھ قریب ہےوہ کھیلنے کو برف کے گالے تو دے گیا

اہل طلب پہ اس کے لیے فرض ہے دعاخیرات میں وہ چند نوالے تو دے گیا

محسنؔ اسے قبا کی ضرورت نہ تھی مگردنیا کو روز و شب کے دوشالے تو دے گیا

— محسن نقوی