5 اشعار

کٹھن تنہائیوں سے کون کھیلا میں اکیلا

KaThin tanhā.īoñ se kaun khelanā maiñ akelā

کٹھن تنہائیوں سے کون کھیلا میں اکیلا

«کٹھن تنہائیوں سے کون کھیلا میں اکیلا» محسن نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

کٹھن تنہائیوں سے کون کھیلا میں اکیلابھرا اب بھی مرے گاؤں کا میلہ میں اکیلا

بچھڑ کر تجھ سے میں شب بھر نہ سویا کون رویابجز میرے یہ دکھ بھی کس نے جھیلا میں اکیلا

یہ بے آواز بنجر بن کے باسی یہ اداسییہ دہشت کا سفر جنگل یہ بیلہ میں اکیلا

میں دیکھوں کب تلک منظر سہانے سب پرانےوہی دنیا وہی دل کا جھمیلا میں اکیلا

وہ جس کے خوف سے صحرا سدھارے لوگ سارےگزرنے کو ہے طوفاں کا وہ ریلا میں اکیلا

— محسن نقوی