7 اشعار

خمار موسم خوشبو حد چمن میں کھلا

Khumār-e-mausam ḳhushbū had-e-chaman meñ khilā

خمار موسم خوشبو حد چمن میں کھلا

«خمار موسم خوشبو حد چمن میں کھلا» محسن نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔

خمار موسم خوشبو حد چمن میں کھلامری غزل کا خزانہ ترے بدن میں کھلا

تم اس کا حسن کبھی اس کی بزم میں دیکھوکہ ماہتاب سدا شب کے پیرہن میں کھلا

عجب نشہ تھا مگر اس کی بخشش لب میںکہ یوں تو ہم سے بھی کیا کیا نہ وہ سخن میں کھلا

نہ پوچھ پہلی ملاقات میں مزاج اس کاوہ رنگ رنگ میں سمٹا کرن کرن میں کھلا

بدن کی چاپ نگہ کی زباں بھی ہوتی ہےیہ بھید ہم پہ مگر اس کی انجمن میں کھلا

کہ جیسے ابر ہوا کی گرہ سے کھل جائےسفر کی شام مرا مہرباں تھکن میں کھلا

کہوں میں کس سے نشانی تھی کس مسیحا کیوہ ایک زخم کہ محسنؔ مرے کفن میں کھلا

— محسن نقوی