6 اشعار

کس نے سنگ خامشی پھینکا بھرے بازار پر

Kis ne sang-e-ḳhāmushī pheñkā bhare bāzār par

کس نے سنگ خامشی پھینکا بھرے بازار پر

«کس نے سنگ خامشی پھینکا بھرے بازار پر» محسن نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

کس نے سنگ خامشی پھینکا بھرے بازار پراک سکوت مرگ طاری ہے در و دیوار پر

تو نے اپنی زلف کے سائے میں افسانے کہےمجھ کو زنجیریں ملی ہیں جرأت اظہار پر

شاخ عریاں پر کھلا اک پھول اس انداز سےجس طرح تازہ لہو چمکے نئی تلوار پر

سنگ دل احباب کے دامن میں رسوائی کے پھولمیں نے دیکھا ہے نیا منظر فراز دار پر

اب کوئی تہمت بھی وجہ کرب رسوائی نہیںزندگی اک عمر سے چپ ہے ترے اصرار پر

میں سر مقتل حدیث زندگی کہتا رہاانگلیاں اٹھتی رہیں محسنؔ مرے کردار پر

— محسن نقوی