7 اشعار

لبوں پہ حرف رجز ہے زرہ اتار کے بھی

Laboñ pe harf-e-rajaz hai zirah utār ke bhī

لبوں پہ حرف رجز ہے زرہ اتار کے بھی

«لبوں پہ حرف رجز ہے زرہ اتار کے بھی» محسن نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

لبوں پہ حرف رجز ہے زرہ اتار کے بھیمیں جشن فتح مناتا ہوں جنگ ہار کے بھی

اسے لبھا نہ سکا میرے بعد کا موسمبہت اداس لگا خال و خد سنوار کے بھی

اب ایک پل کا تغافل بھی سہہ نہیں سکتےہم اہل دل کبھی عادی تھے انتظار کے بھی

وہ لمحہ بھر کی کہانی کہ عمر بھر میں کہیابھی تو خود سے تقاضے تھے اختصار کے بھی

زمین اوڑھ لی ہم نے پہنچ کے منزل پرکہ ہم پہ قرض تھے کچھ گرد رہ گزار کے بھی

مجھے نہ سن مرے بے شکل اب دکھائی تو دےمیں تھک گیا ہوں فضا میں تجھے پکار کے بھی

مری دعا کو پلٹنا تھا پھر ادھر محسنؔبہت اجاڑ تھے منظر افق سے پار کے بھی

— محسن نقوی