8 اشعار

میں دل پہ جبر کروں گا تجھے بھلا دوں گا

Maiñ dil pe jabr karūñgā tujhe bhulā dūñgā

میں دل پہ جبر کروں گا تجھے بھلا دوں گا

«میں دل پہ جبر کروں گا تجھے بھلا دوں گا» محسن نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

میں دل پہ جبر کروں گا تجھے بھلا دوں گامروں گا خود بھی تجھے بھی کڑی سزا دوں گا

یہ تیرگی مرے گھر کا ہی کیوں مقدر ہومیں تیرے شہر کے سارے دیئے بجھا دوں گا

ہوا کا ہاتھ بٹاؤں گا ہر تباہی میںہرے شجر سے پرندے میں خود اڑا دوں گا

وفا کروں گا کسی سوگوار چہرے سےپرانی قبر پہ کتبہ نیا سجا دوں گا

اسی خیال میں گزری ہے شام درد اکثرکہ درد حد سے بڑھے گا تو مسکرا دوں گا

تو آسمان کی صورت ہے گر پڑے گا کبھیزمیں ہوں میں بھی مگر تجھ کو آسرا دوں گا

بڑھا رہی ہیں مرے دکھ نشانیاں تیریمیں تیرے خط تری تصویر تک جلا دوں گا

بہت دنوں سے مرا دل اداس ہے محسنؔاس آئنے کو کوئی عکس اب نیا دوں گا

— محسن نقوی