7 اشعار

نیا ہے شہر نئے آسرے تلاش کروں

Nayā hai shahr na.e aasre talāsh karūñ

نیا ہے شہر نئے آسرے تلاش کروں

«نیا ہے شہر نئے آسرے تلاش کروں» محسن نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

نیا ہے شہر نئے آسرے تلاش کروںتو کھو گیا ہے کہاں اب تجھے تلاش کروں

جو دشت میں بھی جلاتے تھے فصل گل کے چراغمیں شہر میں بھی وہی آبلے تلاش کروں

تو عکس ہے تو کبھی میری چشم تر میں اترترے لیے میں کہاں آئنے تلاش کروں

تجھے حواس کی آوارگی کا علم کہاںکبھی میں تجھ کو ترے سامنے تلاش کروں

غزل کہوں کبھی سادہ سے خط لکھوں اس کواداس دل کے لیے مشغلے تلاش کروں

مرے وجود سے شاید ملے سراغ تراکبھی میں خود کو ترے واسطے تلاش کروں

میں چپ رہوں کبھی بے وجہ ہنس پڑوں محسنؔاسے گنوا کے عجب حوصلے تلاش کروں

— محسن نقوی