7 اشعار

قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کے بیچ

Qatl chhupte the kabhī sang kī dīvār ke bīch

قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کے بیچ

«قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کے بیچ» محسن نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کے بیچاب تو کھلنے لگے مقتل بھرے بازار کے بیچ

اپنی پوشاک کے چھن جانے پہ افسوس نہ کرسر سلامت نہیں رہتے یہاں دستار کے بیچ

سرخیاں امن کی تلقین میں مصروف رہیںحرف بارود اگلتے رہے اخبار کے بیچ

کاش اس خواب کی تعبیر کی مہلت نہ ملےشعلے اگتے نظر آئے مجھے گلزار کے بیچ

ڈھلتے سورج کی تمازت نے بکھر کر دیکھاسر کشیدہ مرا سایا صف اشجار کے بیچ

رزق ملبوس مکاں سانس مرض قرض دوامنقسم ہو گیا انساں انہی افکار کے بیچ

دیکھے جاتے نہ تھے آنسو مرے جس سے محسنؔآج ہنستے ہوئے دیکھا اسے اغیار کے بیچ

— محسن نقوی