8 اشعار

سانسوں کے اس ہنر کو نہ آساں خیال کر

Sāñsoñ ke is hunar ko na āsāñ ḳhayāl kar

سانسوں کے اس ہنر کو نہ آساں خیال کر

«سانسوں کے اس ہنر کو نہ آساں خیال کر» محسن نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 12 سیکنڈ ہے۔

سانسوں کے اس ہنر کو نہ آساں خیال کرزندہ ہوں ساعتوں کو میں صدیوں میں ڈھال کر

مالی نے آج کتنی دعائیں وصول کیںکچھ پھول اک فقیر کی جھولی میں ڈال کر

کل یوم ہجر زرد زمانوں کا یوم ہےشب بھر نہ جاگ مفت میں آنکھیں نہ لال کر

اے گرد باد لوٹ کے آنا ہے پھر مجھےرکھنا مرے سفر کی اذیت سنبھال کر

محراب میں دیے کی طرح زندگی گزارمنہ زور آندھیوں میں نہ خود کو نڈھال کر

شاید کسی نے بخل زمیں پر کیا ہے طنزگہرے سمندروں سے جزیرے نکال کر

یہ نقد جاں کہ اس کا لٹانا تو سہل ہےگر بن پڑے تو اس سے بھی مشکل سوال کر

محسنؔ برہنہ سر چلی آئی ہے شام غمغربت نہ دیکھ اس پہ ستاروں کی شال کر

— محسن نقوی