9 اشعار

سارے لہجے ترے بے زماں ایک میں

Sāre lahje tere be-zabāñ ek maiñ

سارے لہجے ترے بے زماں ایک میں

«سارے لہجے ترے بے زماں ایک میں» محسن نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 15 سیکنڈ ہے۔

سارے لہجے ترے بے زماں ایک میںاس بھرے شہر میں رائیگاں ایک میں

وصل کے شہر کی روشنی ایک توہجر کے دشت میں کارواں ایک میں

بجلیوں سے بھری بارشیں زور پراپنی بستی میں کچا مکاں ایک میں

حسرتوں سے اٹے آسماں کے تلےجلتی بجھتی ہوئی کہکشاں ایک میں

مجھ کو فارغ دنوں کی امانت سمجھبھولی بسری ہوئی داستاں ایک میں

رونقیں شور میلے جھمیلے ترےاپنی تنہائی کا رازداں ایک میں

ایک میں اپنی ہی زندگی کا بھرماپنی ہی موت پر نوحہ خواں ایک میں

اس طرف سنگ باری ہر اک بام سےاس طرف آئنوں کی دکاں ایک میں

وہ نہیں ہے تو محسنؔ یہ مت سوچنااب بھٹکتا پھروں گا کہاں ایک میں

— محسن نقوی