10 اشعار

ترے بدن سے جو چھو کر ادھر بھی آتا ہے

Tere badan se jo chhū kar idhar bhī aatā hai

ترے بدن سے جو چھو کر ادھر بھی آتا ہے

«ترے بدن سے جو چھو کر ادھر بھی آتا ہے» محسن نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 37 سیکنڈ ہے۔

ترے بدن سے جو چھو کر ادھر بھی آتا ہےمثال رنگ وہ جھونکا نظر بھی آتا ہے

تمام شب جہاں جلتا ہے اک اداس دیاہوا کی راہ میں اک ایسا گھر بھی آتا ہے

وہ مجھ کو ٹوٹ کے چاہے گا چھوڑ جائے گامجھے خبر تھی اسے یہ ہنر بھی آتا ہے

اجاڑ بن میں اترتا ہے ایک جگنو بھیہوا کے ساتھ کوئی ہم سفر بھی آتا ہے

وفا کی کون سی منزل پہ اس نے چھوڑا تھاکہ وہ تو یاد ہمیں بھول کر بھی آتا ہے

جہاں لہو کے سمندر کی حد ٹھہرتی ہےوہیں جزیرۂ لعل و گہر بھی آتا ہے

چلے جو ذکر فرشتوں کی پارسائی کاتو زیر بحث مقام بشر بھی آتا ہے

ابھی سناں کو سنبھالے رہیں عدو میرےکہ ان صفوں میں کہیں میرا سر بھی آتا ہے

کبھی کبھی مجھے ملنے بلندیوں سے کوئیشعاع صبح کی صورت اتر بھی آتا ہے

اسی لیے میں کسی شب نہ سو سکا محسنؔوہ ماہتاب کبھی بام پر بھی آتا ہے

— محسن نقوی