8 اشعار

اجڑ اجڑ کے سنورتی ہے تیرے ہجر کی شام

Ujaṛ ujaṛ ke sañvartī hai tere hijr kī shām

اجڑ اجڑ کے سنورتی ہے تیرے ہجر کی شام

«اجڑ اجڑ کے سنورتی ہے تیرے ہجر کی شام» محسن نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

اجڑ اجڑ کے سنورتی ہے تیرے ہجر کی شامنہ پوچھ کیسے گزرتی ہے تیرے ہجر کی شام

یہ برگ برگ اداسی بکھر رہی ہے مریکہ شاخ شاخ اترتی ہے تیرے ہجر کی شام

اجاڑ گھر میں کوئی چاند کب اترتا ہےسوال مجھ سے یہ کرتی ہے تیرے ہجر کی شام

مرے سفر میں اک ایسا بھی موڑ آتا ہےجب اپنے آپ سے ڈرتی ہے تیرے ہجر کی شام

بہت عزیز ہیں دل کو یہ زخم زخم رتیںانہی رتوں میں نکھرتی ہے تیرے ہجر کی شام

یہ میرا دل یہ سراسر نگارخانۂ غمسدا اسی میں اترتی ہے تیرے ہجر کی شام

جہاں جہاں بھی ملیں تیری قربتوں کے نشاںوہاں وہاں سے ابھرتی ہے تیرے ہجر کی شام

یہ حادثہ تجھے شاید اداس کر دے گاکہ میرے ساتھ ہی مرتی ہے تیرے ہجر کی شام

— محسن نقوی