7 اشعار

اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر

Ujṛe hue logon se gurezaan na hua kar

اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر

«اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر» محسن نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔

اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرحالات کی قبروں کے یہ کتبے بھی پڑھا کر

کیا جانئے کیوں تیز ہوا سوچ میں گم ہےخوابیدہ پرندوں کو درختوں سے اڑا کر

اس شخص کے تم سے بھی مراسم ہیں تو ہوں گےوہ جھوٹ نہ بولے گا مرے سامنے آ کر

ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کر دےتنہائی کے لمحوں میں کبھی رو بھی لیا کر

وہ آج بھی صدیوں کی مسافت پہ کھڑا ہےڈھونڈا تھا جسے وقت کی دیوار گرا کر

اے دل تجھے دشمن کی بھی پہچان کہاں ہےتو حلقۂ یاراں میں بھی محتاط رہا کر

اس شب کے مقدر میں سحر ہی نہیں محسنؔدیکھا ہے کئی بار چراغوں کو بجھا کر

— محسن نقوی