6 اشعار

وہ دلاور جو سیہ شب کے شکاری نکلے

Wo dilawar jo siyah shab ke shikaari nikle

وہ دلاور جو سیہ شب کے شکاری نکلے

«وہ دلاور جو سیہ شب کے شکاری نکلے» محسن نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

وہ دلاور جو سیہ شب کے شکاری نکلےوہ بھی چڑھتے ہوئے سورج کے پجاری نکلے

سب کے ہونٹوں پہ مرے بعد ہیں باتیں میریمیرے دشمن مرے لفظوں کے بھکاری نکلے

اک جنازہ اٹھا مقتل میں عجب شان کے ساتھجیسے سج کر کسی فاتح کی سواری نکلے

ہم کو ہر دور کی گردش نے سلامی دی ہےہم وہ پتھر ہیں جو ہر دور میں بھاری نکلے

عکس کوئی ہو خد و خال تمہارے دیکھوںبزم کوئی ہو مگر بات تمہاری نکلے

اپنے دشمن سے میں بے وجہ خفا تھا محسنؔمیرے قاتل تو مرے اپنے حواری نکلے

— محسن نقوی