8 اشعار

یہ کہہ گئے ہیں مسافر لٹے گھروں والے

Ye keh gaye hain musaafir luṭe gharon waale

یہ کہہ گئے ہیں مسافر لٹے گھروں والے

«یہ کہہ گئے ہیں مسافر لٹے گھروں والے» محسن نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔

یہ کہہ گئے ہیں مسافر لٹے گھروں والےڈریں ہوا سے پرندے کھلے پروں والے

یہ میرے دل کی ہوس دشت بے کراں جیسیوہ تیری آنکھ کے تیور سمندروں والے

ہوا کے ہاتھ میں کاسے ہیں زرد پتوں کےکہاں گئے وہ سخی سبز چادروں والے

کہاں ملیں گے وہ اگلے دنوں کے شہزادےپہن کے تن پہ لبادے گداگروں والے

پہاڑیوں میں گھرے یہ بجھے بجھے رستےکبھی ادھر سے گزرتے تھے لشکروں والے

انہی پہ ہو کبھی نازل عذاب آگ اجلوہی نگر کبھی ٹھہریں پیمبروں والے

ترے سپرد کروں آئینے مقدر کےادھر تو آ مرے خوش رنگ پتھروں والے

کسی کو دیکھ کے چپ چپ سے کیوں ہوئے محسنؔکہاں گئے وہ ارادے سخن وروں والے

— محسن نقوی