7 اشعار

زباں رکھتا ہوں لیکن چپ کھڑا ہوں

Zabaan rakhta hoon lekin chup khaṛa hoon

زباں رکھتا ہوں لیکن چپ کھڑا ہوں

«زباں رکھتا ہوں لیکن چپ کھڑا ہوں» محسن نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔

زباں رکھتا ہوں لیکن چپ کھڑا ہوںمیں آوازوں کے بن میں گھر گیا ہوں

مرے گھر کا دریچہ پوچھتا ہےمیں سارا دن کہاں پھرتا رہا ہوں

مجھے میرے سوا سب لوگ سمجھیںمیں اپنے آپ سے کم بولتا ہوں

ستاروں سے حسد کی انتہا ہےمیں قبروں پر چراغاں کر رہا ہوں

سنبھل کر اب ہواؤں سے الجھنامیں تجھ سے پیشتر بجھنے لگا ہوں

مری قربت سے کیوں خائف ہے دنیاسمندر ہوں میں خود میں گونجتا ہوں

مجھے کب تک سمیٹے گا وہ محسنؔمیں اندر سے بہت ٹوٹا ہوا ہوں

— محسن نقوی